چند سال قبل تک پاکستان میں چائنہ کے امپورٹڈ موٹرسائیکل پارٹس استعمال کرنے کا رجحان بہت زیادہ تھا اس وقت بہت زیادہ کمپنیاں بھی پاکستان میں موجود نہیں تھی کراؤن لیفان کمپنی نے بہت اچھی شروعات کی اگرچہ اس سے پہلے بھی چائنا سے کچھ لوگ موٹر سائیکل پارٹس امپورٹ کر رہے تھے لیکن ایک برانڈ کی شکل مکمل مارکیٹنگ میں کراؤن لیفان نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔
کرون لیفان کے دیکھا دیکھی دیگر برینڈ نے بھی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی جن میں آئی ایس ایچ،ایکسل اور دیگر کئی نام جن کے نام کے ساتھ لفان کا لفظ لگا ہوتا تھا مارکیٹ میں متعارف ہونے لگے شروع شروع میں ان کمپنیوں نے اپنے تمام پارٹس اسیسریز چائنا سے امپورٹ کی بہترین پیکنگ ،بہترین مارکیٹنگ، اور ڈیلرشپ کا نیٹ ورک بہت موثر بنایا اور ان کے موٹر سائیکل پارٹس پورے پاکستان میں ہر جگہ بکنے لگے۔
پھر کچھ قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا حکومت کے ٹیکس،بجلی ،گیس ،پٹرول مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ دن بدن چائنہ کے پارٹس خرید سے باہر ہونے لگے تو مقامی انڈسٹری پھلنے پھولنے لگی اور آج کل کچھ چائنہ کے پارٹس منگوائے جاتے ہیں باقی اپنی پیکنگ میں لوکل پارٹس اچھی کمپنیوں سے لے کر پیک کر کے مارکیٹ میں سیل کرنے کے لیے بھیج دیے جاتے ہیں ۔
یہاں تک کہ کراؤن لیفان جیسی بڑی کمپنی بھی سارے پارٹس چائنا سے امپورٹ نہیں کر رہی لوکل وینڈر سے اپنی کوالٹی سٹینڈرڈ کے مطابق مال تیار کروا کے اپنی پیکنگ میں بیچ رہی ہے اسی طرح آپ اگر پاکستان کی ٹاپ لیڈنگ کمپنی ہنڈاکی بات کریں تو اس کے کچھ پارٹس امپورٹڈ ہوتے ہیں جو ہونڈا کی ریکوائرمنٹ اور ہنڈا کمپنی پالیسی کے مطابق لگائے جاتے ہیں دیگر پارٹس میں بہت اچھی کوالٹی کے لوکل پارٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان میں سے کچھ پارٹس ہنڈاخود سے تیار کرتا ہے باقی جو اچھی کمپنیز ہیں ان سے وہ خریدتا ہے جن کو ہم ہنڈا وینڈر کے نام سے بلاتے ہیں پاکستان میں چائنا کی موٹرسائیکل اسمبلنگ یونٹ لگنے سے کمپنیوں نے انجن چائنا سے منگوائے باڈی پارٹس پاکستان کے لوکل وینڈر سے لینے شروع کر دیے دھیرے دھیرے مقابلہ بھی بڑھتا رہا کسٹمر میں اضافہ ہوتا گیا ۔
پاکستان میں ہر سال موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھتی رہی تو پارٹس بھی زیادہ بکنے لگے پھر حکومتی پالیسی اور ٹیکسز کے ایسے معاملات سامنے آنے لگے کہ دھات کے ریٹ اور پلاسٹک ایٹمز بھی مہنگی ہونے لگی تو چائنہ سے صرف خام مال منگوایا جانے لگا باقی مال یہیں پہ تیار کیا جاتا تھا ۔
جس کی مثال یہ ہے کہ کچھ سال پہلے تک چائنہ سے مکمل تیار شدہ بیرنگ منگوائے جاتے تھے اب چائنہ سے مٹیریل منگوایا جاتا ہے لوک ،فیکٹریاں اسمبلنگ کر کے ان کو مارکیٹ میں سیل کر رہی ہیں اسی طرح سے موٹر سائیکل پارٹس میں اگنیشن سوئچ، ہینڈل لاک،ٹاپہ لاک، فیول ٹینک کیپ، اور دیگر کئی پارٹس ایسے تھے جو یہ سمجھا جاتا تھا کہ چائنا سے ہی مناسب رہے گا لیکن اب وہ بھی پاکستان میں بہترین بنائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ خام مٹیریل کے لیے ہماراابھی بھی چائنا پہ دارومدار ہے امید ہے ایک وقت آ ئے گا کہ یہ ضرورت ہم خود سے پوری کریں گے جہاں تک بات ہے پارٹس کی کوالٹی کی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چائنہ نے بہترین کوالٹی پارٹس دیے ہیں آپ چائنہ سے جس گریڈ کا مال چاہیں امپورٹ کر سکتے ہیں لیکن پاکستانی امپورٹرزنے بہت اچھے گریڈ کی بجائے درمیانےگریڈ اور لو گریڈ کو پاکستان میں متعارف کرایا
پاکستان کی بیشتر کمپنیاں جیسے کہ ہنڈاکمپنیاں ہے ان کا الگ سیٹ اپ اور معیار اب بھی ہےجو ان کو مال تیار کر کے دیتے ہیں جن میں بریک شو ، کیبلز، ہیں باڈی پارٹس میں مڈگارڈ اور بھی دیگر کئی ایسی پارٹس ہیں جو ہونڈا کمپنی اپنے وینڈر سے لیتا ہے لیکن ہنڈا کا ایک معیار ہے کہ وہ اس وینڈر سے لیتا ہے جو اس کی ریکوائرمنٹ کے مطابق چلتا ہے اور فراہم کرتا ہے۔
تو اگر ہنڈا کو اس مارکیٹ سےمعیاری موٹر سائیکل پارٹس مل سکتے ہیں جن کی بائیک سب سے نمبر ون جا رہی ہے تو پھر اس میں لگنے والے پارٹس بھی تو نمبر ون ہیں تو وہ کہاں سے آرہے ہیں پاکستانی مارکیٹ سے ہی آ رہے ہیں نا اس کا مطلب یہ ہوا کہ چائنہ سے زیادہ اچھا مال پاکستان بنا رہا ہے
لیکن وہ کمپنیاں کم ہیں جو بہت اچھا مال بناتی ہیں لوکل گھروں میں بنایا جانے والا مال بہت اچھی کوالٹی کا نہیں ہوتا فنشنگ اچھی نہیں ہوتی کبھی سائز اچھا نہیں ہوتا جبکہ چائنہ سے امپورٹڈ مال کا سائز اور فنشنگ بہترین ہوتی ہے وہ اپنے سائز بہترین فٹنگ اور فنشنگ کی بدولت مارکیٹ میں زیادہ سیل ہوتا ہے۔
لیکن ریٹ بہت زیادہ ہو جانے کی وجہ سے اب بڑے بڑے برینڈز لوکل وینڈر سے مال لے کر اپنی پیکنگ میں اپنے برانڈنگ میں بیچ رہے ہیں تو یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ پاکستان کا مال اچھا نہیں ہے موٹر سائیکل پارٹس چائنہ والے زیادہ اچھے ہیں چائنہ سے بھی آپ اچھے منگوا سکتے ہیں اور پاکستان سے بھی اچھے تیار کروائے جا سکتے ہیں ۔
آج کل مقابلے کا بہت زیادہ رجحان ہے پاکستانی مارکیٹ میں لوکل مینوفیکچرر نے اپنی جگہ بنا لی ہے ان میں عام مال بنانے والے بھی شامل ہیں اور بہت اچھا مال بنانے والے بھی شامل ہیں اچھا مال بنانے والے زیادہ کریڈٹ نہیں کرتے کوالٹی اچھی دیتے ہیں ان کا ریٹ اچھا ہوتا ہے وہ لوکل چائنہ بائیک بنانے والے جو یونٹ ہیں ان کو بھی مال فراہم کرتے ہیں۔
اور ان میں سے کچھ لوگ ہنڈاکے بھی وینڈر ہیں تو جہاں تک بات ہے کوالٹی کی چائنا موٹرسائیکل سپیئر پارٹس اور پاکستانی موٹر سائیکل سپیر پارٹس کی تو مارکیٹ میں چائنا کے بھی گھٹیا پارٹس موجود ہیں اور لوکل بھی گھٹیا ہیں تو یہ ہم یقینی طور پہ نہیں کہہ سکتے کہ چائنہ کے پارٹس اچھے ہیں یا برے ہیں اور پاکستان کے ان سے بہتر ہیں یا نہیں
بات یہ ہے کہ دونوں طرح کے وینڈر مارکیٹ میں موجود ہیں اور دونوں طرح کے امپورٹر موجود ہیں چائنا سے عام کوالٹی کا منگوانے والے بھی موجود ہیں جو چائنا کے لیے بدنامی کا باعث ہے اور ان کی کوئی کوالٹی نہیں ہے اسی طرح پاکستانی مارکیٹ میں جو لوکل وینڈر ہے وہ بہت اچھا مال بنا رہے ہیں جو ہنڈاکو بھی دے رہے ہیں
اور لوکل چائنا بائیک بنانے والے یونٹ کو بھی دے رہے ہیں اور بہت اچھی کوالٹی میں دے رہے ہیں اب دھیرے دھیرے ایسے مینوفیکچرر آگے ارہے ہیں جو اپنی ضرورت کےمٹیریل کے لیے بھی چائنا کی بجائے خود سے کوشش کر رہے ہیں کہ ہمیں خام مٹیریل کے لیے بھی چائنا کی محتاجی نہ رہے
لیکن ابھی بھی بہت سارا خام مٹیریل کچھ آئٹمز مجبوری ہے ان کی چائنا سے امپورٹ کی جا رہی ہیں جس دن پاکستان کے اندر خام مٹیریل بھی فراوانی سے ملنے لگے گا پرائس مزید نیچے آجائیں گی لیکن ابھی تک ہم مٹیریل کے لیئے چائنا کے مرہون منت ہے بہت ساری چیزوں کا مٹیریل چائنہ سے ہی آ رہا ہے اگرچہ اسمبلنگ یہاں ہو رہی ہے پارٹس مکمل یہاں بنائے جاتے ہیں
لیکن اس کے بنیادی تیاری کے لیے جو ضروریات ہیں وہ چائنہ سے ہی منگوائی جا رہی ہیں تو چائنہ سے بھی ہر طرح کا مال آرہا ہے اور پاکستان میں بھی ہر طرح کا مال بن رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ کو اگر کسی پارٹس کی ضرورت ہے اگر آپ کو معیاری پارٹس چاہیے اپنا برانڈ بنانا ہے تو اپ بھی اپنے لیے کسی اچھے وینڈر کی تلاش کریں۔
اس سے مال لیں اپنے برانڈ میں پیک کریں اور مارکیٹنگ کریں اگر اپ امپورٹر ہیں تو کوشش کریں چائنہ سے معیاری پارٹس منگوائیں تاکہ مارکیٹ میں آپ جگہ بنا سکیں لیکن یاد رکھیں چائنا کا معیاری پارٹس آج کل کافی مہنگا پڑ رہا ہے تو اس لیے اگر آپ پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینا چاہتے ہیں بہت اچھی بات ہے
ان سے مناسب ریٹ اور کوالٹی کی بات فائنل کریں اپنا برانڈ شروع کر سکتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ اپ ایک سے یا 200 ایٹم سے اپنا برینڈ شروع کریں آپ پانچ دس پارٹس سے بھی شروعات کر سکتے ہیں اگر آپ کامیابی چاہتے ہیں تو اپنا برانڈ بنانے کے لیے کوالٹی کو مد نظر رکھیں ۔
مارجن جو ہے وہ مناسب رکھیں اور لوکل مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھآل اوور پاکستان بھی اپنی مارکیٹنگ کریں ایڈ چلائیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی آپ اس کو پروموٹ کر سکتے ہیں کوالٹی پیکنگ پرائس مناسب اس سے آپ کو زیادہ فوائد ملیں گے اور آپ کی پارٹس کی جو سیل ہے وہ زیادہ ہو جائے گی
تو اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں معیاری پارٹس بن رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ کیا آپ کو ان وینڈر تک رسائی حاصل ہے یا آپ ان کو جانتے ہیں اگر نہیں جانتے تو اج کل سوشل میڈیا کا دور ہے آپ مارکیٹ سے رہنمائی لے سکتے ہیں خود سے سرچ کر سکتے ہیں اچھے وینڈر ہیں جو بہترین کوالٹی پارٹس بنا کے ہنڈا کو بھی دے رہے ہیں آپ ان سے مال خرید سکتے ہیں
اپنی پیکنگ میں سیل کر سکتے ہیں جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ چائنہ سے بیس یا تیس پرسنٹ مالآرہا ہے باقی لوکل بہترین چائنا فنشنگ جیسا تیار کروا کے چائنا کے نام سے ہی بنائی گئی پیکنگ میں سیل کیا جا رہا ہے آپ اگر اس طرح کا برینڈ شروع کرنا چاہتے ہیں تو امید ہے ہمارا یہ آرٹیکل بنیادی معلومات فراہم کرے گا۔ لیکن برانڈ بنانےکے حوالے سے مزید تفصیلی آرٹیکل بہت جلد یہاں پر ہی آپکو پڑھنے کو ملے گا
اس کی روشنی میں آپ کو کافی رہنمائی مل سکتی ہے مزید کسی چیز کے لیے مشورہ یا رہنمائی کی ضرورت ہو یا آپ کو اپنی دوکان سپلائی چین کے لیے پارٹس کی ضرورت ہو تو نیچے دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ
Whatsaap 03114366443
